ورلڈ اسٹروک آرگنائزیشن کے زیرِاہتمام دُنیا بَھر میں ہر سال29اکتوبر کو ’’عالمی یومِ فالج‘‘ منایاجاتا ہے۔ صحت کے دیگر ایّام کی طرح اس دِن کے لیے بھی کوئی ایک تھیم منتخب کرکےعوام النّاس میں آگاہی عام کی جاتی ہے۔ امسال کا تھیم ،”Join The MoveMent To Prevent Stroke”ہے۔جب کہ ورلڈ اسٹروک آرگنائزیشن کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق چوں کہ ہر چار میں سے ایک بالغ فرد پر کبھی بھی فالج کا حملہ ہو سکتا ہے، تو ایک سلوگن”DON’T BE THE ONE”بھی جاری کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ درمیانی عُمر کے افراد میں فالج کی شرح برطانیہ یا امریکا کی نسبت پاکستان، بھارت، روس، چین اور برازیل میں پانچ سے دس گنا زائد پائی جاتی ہے۔مختلف طبّی تحقیقات کے مطابق ترقّی پذیر مُمالک میں، بشمول پاکستان فالج کی وجوہ مغربی مُمالک سے قدرے مختلف ہیں،جب کہ ہمارے خطّے میں نوجوانوں خاص طور پر خواتین میں مرض کی شرح بُلند ہے۔ دُنیا بَھر میں پاکستان کا شمار آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر کیا جاتا ہے(جو تقریباً 22کروڑ نُفوس پر مشتمل ہے)اور کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ آبادی کا تقریباً 5فی صد حصّہ فالج کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس اعتبار سے مُلک کے طول و عرض میں تقریباً دس لاکھ سے زائد فالج سے متاثرہ مریض موجود ہیں۔

فالج ایک ایسا مرض ہے، جس میں جسم کا کوئی ایک حصّہ اچانک ہی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔اصل میں خون کی شریانوں کے مسائل جیسے کسی شریان کا پھٹ جانا، خون گاڑھا ہونا یاجم جانااسٹروک (فالج)کا باعث بنتا ہے۔فالج کی دو اقسام Ischemic اور Hemorrhagicعام ہیں۔ پہلی قسم میں اگر خون کی نالی میں کسی بھی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوجائے اور خون دماغ تک مناسب مقدار میں نہ پہنچ پائے، تو جسم کا کوئی حصّہ مفلوج ہوجاتا ہے، جب کہ دوسری قسم میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی شريان پھٹ جانے کے نتیجے ميں فالج ہوجاتا ہے۔

یہ ایک قابلِ علاج مرض ہے اور ہمارے مُلک میں اس کا مؤثر علاج بھی دستیاب ہے، مگر مریضوں کی بڑی تعداد معیاری اور سستے علاج سے محروم ہے، جس کے ویسے تو کئی عوامل ہیں، لیکن بنیادی وجہ معلومات کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مریض مستند علاج کی بجائے مشوروں اور ٹونوں ٹوٹکوں پر عمل کرکے یا تو مرض پیچیدہ کرلیتے ہیں یا پھر لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔

اِمسال عالمی وبا کووڈ-19نے دُنیا بَھرکو اپنی لپیٹ میں لے کریہ واضح کردیا کہ ترقّی یافتہ مُمالک ہوں یا ترقّی پذیر سب کا مشترکہ مسئلہ بہرحال ’’انسانی صحت‘‘ ہے۔اس ضمن میں امراض سے متعلق معلومات کی اہمیت کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ خیال رہے، اگر اسٹروک سے متعلق معلومات کی فراہمی، احتیاطی تدابیر، تشخیص و علاج اور بعد ازاں بحالی کے اقدامات پر منظم و بَھرپور توجّہ نہ دی گئی،تو آنے والے چند برسوں میں یہاں فالج زدہ نوجوان معذورین کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے کہ مُلک میں شعبۂ صحت کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہرگز اطمینان بخش حالت میں نہیں، جس کی واضح مثال کوروناوائرس کے عروج کے ایّام ہیں۔

دراصل وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کبھی بھی شعبۂ صحت کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں رکھا، جس کے نتیجے میں آبادی کی اکثریت کو صحت کی بنیادی سہولتیں تک میسّر نہیں، جب کہ عوام کی ایک بڑی تعداد نہ صرف فالج کی وجوہ اور اس سے بچاؤ کے اقدامات سے ناواقف ہے، بلکہ اگر خدانخواستہ کسی کو یہ مرض لاحق ہو جائے، تو وہ اس کی فوری تشخیص اور علاج کی سہولتوں سے بھی محروم ہے۔

فالج سے متعلق بنیادی معلومات کے حصول سے قبل تین باتوں کا جاننا ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔اوّل یہ کہ ہمیں طرزِزندگی میں ایسی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، جن کے نتیجے میں جسم میں فالج ہونے کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ دوم، اگر کسی فرد میں فالج کی علامات پائی جائیں، تو فوری طور پر اسپتال لے جایاجائے، تاکہ بروقت تشخیص کے بعد فوراً علاج شروع ہوسکے۔

سوم، فالج کے بعد مریض کی بحالیٔ صحت(Rehabilitation)کے لیے مناسب دیکھ بھال اَزحد ضروری ہے، تاکہ ایک نارمل زندگی گزاری جاسکے۔یاد رکھیں، فالج کے حملے کی صُورت میں بروقت اور درست علاج میسّر آجائے تو موت اور معذوری کے امکانات کم سے کم ہوجاتے ہیں۔فالج سے بچاؤ کے لیے ان اقدامات پر عمل ضروری ہے۔

٭بلڈ پریشر پرکنٹرول: فالج کے حملے کی تقریباً پچاس فی صد وجہ بُلند فشارِ خون ہے،لہٰذا ہر فرد کو اپنے بلڈ پریشر کے متعلق معلوم ہونا چاہیے۔ نارمل بلڈ پریشر اوپر کا(Systolic) 120ایم ایم ایچ جی اور نیچے کا80(Diastolic)ایم ایم ایچ جی سے زائد نہ ہو۔ بلڈ پریشر سے متعلق کسی مفروضے پر ہرگز یقین نہ کیا جائے۔مثلاً عُمر بڑھنے کے ساتھ بلڈ پریشر بڑھتا ہے وغیرہ۔ اگر مستقل طور پرخون کا دباؤ120/80 سےزیادہ رہے، تو معالج سے رجوع کریں۔ معالج کی ہدایت کے مطابق ادویہ وقت پر استعمال کی جائیں۔ علاوہ ازیں، سیلف میڈی کیشن سے اجتناب برتا جائے اور مستند ڈاکٹر ہی سے معائنہ کروایا جائے۔

٭ ورزش: فالج ہونے کی ایک تہائی وجہ ورزش نہ کرنا بھی ہے۔ مختلف سائنسی تحقیقات سے ثابت ہوچُکا ہے کہ ہفتے میں پانچ روز 20سے 30منٹ دورانیے کی ورزش فالج کے خطرات کم کردیتی ہے۔ہلکی پھلکی جسمانی ورزشیں صحت مند رکھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتی ہیں، روزمرّہ معمولات پر بھی مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔نیز، ورزش کرنے وا لے افراد ہشاش بشاش رہتے ہیں اور روزمرّہ امور خوش اسلوبی سے انجام دیتے ہیں،لہٰذا ورزش کو اپنے معمولات کا حصّہ بنالیں۔

٭متوازن غذا کا استعمال: ایک چوتھائی مریضوں پرفالج کا حملہ غیر متوازن غذا کے استعمال کے سبب ہوتا ہے۔ بیش تر ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سادہ غذا، تازہ پھلوں، سبزیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال فالج ہی نہیں کئی اور امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے،لہٰذا کوشش کی جائے کہ فاسٹ فوڈز اور پروسیسڈ فوڈز کا استعمال کم سے کم ہو۔

٭ ایل ڈی ایل کولیسٹرول میں کمی: فالج کے ہر چار میں سے ایک کیس کا تعلق جسم میں ایل ڈی ایل(Low-density lipoprotein)کولیسٹرول کی مقدار میں اضافےسے ہے۔یہ کولیسٹرول صحت کے لیے مضر ہے۔اگرکم چربی، چکنائی والی غذائیں استعمال کی جائیں، پروسیسڈ فوڈز سے اجتناب برتا جائےاور روزانہ ورزش کی جائے،تو جسم میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوگا۔لیکن اگر صحت مندانہ طرزِزندگی اپنانے کے باوجود جسم میں کولیسٹرول کی مقدار زائد ہی رہے،تو فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کریں اور اس کی ہدایت کے مطابق کولیسٹرول کنڑول کرنے والی ادویہ کا استعمال کیا جائے۔

٭متناسب وزن: ہر پانچ میں سے ایک فالج کا اٹیک موٹاپے کی وجہ سے ہوتا ہے۔وزن کی جانچ کے لیے ایک عالمی معیار مقرّر ہے، جو طبّی اصطلاح میں باڈی ماس انڈیکس کہلاتا ہے۔ بی ایم آئی کے لیے کس بھی فرد کے قد اور جسم کے پھیلاؤ کو ناپ کر ایک اوسط شمار وضع کیا جاتا ہے۔اگر کوئی فرد موٹاپے کا شکار ہو تو بہتر یہی ہے کہ وزن میں کمی کے لیے باقاعدہ کسی معالج سے رابطہ کیا جائے۔ اور معالج، جو طریقۂ علاج تجویز کرے، اُس پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔نیز، مستند ماہرِ اغذیہ سے روزمرّہ خوراک کے لیے ایک شیڈول مرتب کروایا جاسکتا ہے۔ وزن کنڑول کرنے کے بنیادی عوامل میں صحت بخش تازہ غذا اور ورزش کے ساتھ جسم میں مطلوبہ مقدار کے مطابق کولیسٹرول کا ہونا لازمی امر ہے۔

٭تمباکو نوشی اور پیسیو اسموکنگ: ہر دس میں سے ایک فالج کا بالواسطہ تعلق تمباکونوشی سےہے،چاہے وہ خود کی جائے یا اس سےبلاواسطہ متاثر ہوا جائے۔اصل میں جس ماحول اور آب و ہوا میں تمباکو کا دھواں شامل ہوتا ہے، اس میں سانس لینے والےوہ افراد بھی، جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے،متاثر ہوجاتے ہیں۔

تمباکو نوشی سے بلاواسطہ متاثر ہونے کوطبّی اصطلاح میں پیسیو اسموکنگ کہا جاتا ہے، لہٰذا تمباکو نوشی سے اجتناب کے ساتھ خود کو اس ماحول سے بچانا بھی از حد ضروری ہے۔ہمارےیہاں تمباکونوشی کےعلاوہ حقّے، نسوار، پان، گٹکے وغیرہ کا استعمال بھی نوجوانوں میں فالج کا باعث بنتاہے۔

٭الکحل اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال: کسی بھی قسم کا نشہ بشمول شراب نوشی دینی احکام کے مطابق حرام ہے۔ تمام طبّی تحقیقات بھی الکحل کے استعمال سے منع کرتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دُنیا بَھر میں سالانہ 10لاکھ سے زائد افراد الکحل کے استعمال کی وجہ سے فالج کا شکار ہوجاتے ہیں،لہٰذا صحت مند رہنے اور بالخصوص فالج کے نتیجے میں عُمر بَھر کی معذوری سے بچنے کے لیے نشہ آور اشیاء سے اجتناب ناگزیر ہے۔

٭دِل کی دھڑکن میں بے ترتیبی: دِل کی دھڑکن کی بےترتیبی فالج کے حملے کے امکانات پانچ گنا بڑھا دیتی ہے۔ اگر کسی کی عُمر پچاس سال سے زائد ہو، تو دِل کی دھڑکن کی تشخیص کے لیے اپنے معالج سے رجوع کیا جائے۔

٭ذیابطیس: ذیابطیس بھی ایک ایسا عارضہ ہے، جو فالج کے امکانات بڑھا دیتا ہے،لہٰذا اگر کوئی فرد ذیابطیس کے عارضے کا شکار ہے، تو اُسے اپنے معالج سے فالج کے خطرے کے متعلق لازماً پوچھنا چاہیے، تاکہ ذیابطیس پر قابو پاکر فالج کے خطرے کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ادویہ باقاعدگی سے استعمال کی جائیں،خون میں شکر کی مقدار بھی پابندی سے جانچی جائے۔ کھانے پینے کا خیاص خیال رکھیں کہ اگر مناسب احتیاط نہ برتی جائے، تو متعلقہ فرد کی پوری زندگی متاثر ہوجاتی ہے۔

٭ ذہنی تناؤ، افسردگی: ہر چھے میں سے ایک فالج کی وجہ ذہنی تناؤ ہے، لہٰذا دباؤ، افسردگی، تناؤ اور غصّے کو ممکن حد تک کنڑول میں رکھنے کی کوشش کریں۔

فالج سے محفوظ رہنے کے لیے سب سے پہلے تو حکومت کو عوام النّاس میں اس ’’دماغی دورے‘‘ (Brain attack) کے متعلق معلومات عام کرنا ہوں گی کہ جب تک عوام میں شعور اُجاگرنہیں ہوتا، مرض کی شرح میں کمی ناممکن ہے۔ترقّی یافتہ مُمالک میں فالج کے حوالے سے شعور و آگاہی پھیلانے کے ضمن میں منظّم منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس کی بدولت فالج کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے میں خاطر خواہ کام یابی حاصل ہوئی ہے۔ اگر ہمارے یہاں بھی سرکاری سرپرستی میں آگاہی مہم کا آغاز ہوجائے، تو اس سے فالج لاحق ہونے کی شرح اور اس سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

نیز، علاج کےضمن میں تمام مطلوبہ سہولتوں اور طبّی آلات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، اسپتالوں میں باقاعدہ طور پر اسٹروک یونٹس قائم کیے جائیں اور بعد از فالج بحالی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جب کہ انفرادی طور پر متمول افراد آگاہی مواد کی ترویج و اشاعت، فالج ہونے کی صُورت میں فوری ادویہ کی مفت فراہمی کے لیے مالی تعاون کریں۔ یاد رکھیے،انفرادی و اجتماعی اقدامات کے ذریعے ہی ایک صحت مند معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

(مضمون نگار،لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹیسڑی، کراچی میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف نیورولوجی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ نیز، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے سینئر ممبر ہیں)